مجھے کچھ قرض دے دو نا
Poet: Jamshed By: Jamshed, Dubaiمیرے ماہی، ذرا سننا
مجے کچھ عرض کرنی ہے...
کہ کچھ دن بعد عید آنی ہے
مجھے کچھ چاہئے تھا تم سے
مجھے کپڑے نہیں چاہیے ، مجھے پیسے نہیں چاہیے
جوتے بھی ہیں میرے پاس ، ہے زیور بھی لیا میں نے
میں سب کچھ لے چکی پہلے، میری تیاری مکمّل ہے
مجھے جو عرض کرنی ہے، مجھے جو بات کہنی ہے
وہ بس اتنی سی ہے جاناں ..کہ
مجھے کچھ قرض دے دو نا..
اپنی چاہت کی صورت میں، کہ جس میں، میں لپٹ جاؤں
اپنی بانہوں کی صورت میں، کہ جس میں ، میں سما جاؤں
اپنی آنکھوں کی صورت میں، کہ جس کو دیکھتی جاؤں
بس اب آ جاؤ جلدی سے ، کہ عید بس آنے والی ہے
میرا وعدہ رہا تم سے
کہ جس لمحے قرض دو گے تم
میں اسی پل قرض اتاروں گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






