مجھے گلے سے لگا لو
Poet: Sahir Ludhianwi By: Malik Aman Ullah Anjum, Sillanwali Sargodhaمجھے گلے سے لگا لو بہت اداس ہوں میں
غم جہاں سے چھڑا لو بہت اداس ہوں میں
یہ انتظار کا دکھ اب سہا نہیں جاتا
تڑپ رہی ہے محبت رہا نہیں جاتا
تم اپنے پاس بلا لو بہت اداس ہوں میں
ہر ایک سانس میں ملنے کی پیاس پلتی ہے
سلگ رہا ہے بدن اور روح جلتی ہے
بچا سکو تو بچا لو بہت اداس ہوں میں
بھٹک چکی ہوں بہت زندگی کی راہوں میں
مجھے اب آکے چھپا لو تم اپنی بانہوں میں
میرا سوال نہ ٹالو بہت اداس ہوں میں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







