مجھے یاد ہے

Poet: Waheed Mughal By: Hafiz Muhammad Waheed, Narang Mandi

پچھلے برس برسات کا موسم
مہکی مہکی ہر بات کا موسم

حسیں لمحوں کی یادیں بھی
بھیگی بھیگی ملاقاتیں بھی

تنہائی میں ہنستے رہنا بھی
ذراذرا گھبرانا بھی

چوری چوری منڈیر پہ آکر
تمہیں سامنے نا پا کر

بے چین نگاہوں کا ہونا بھی
چپکے چپکے رونا بھی

خود سے باتیں کرنا بھی
کچھ کچھ کہتے کہتے ڈرنا بھی

رات کے پچھلے پہر تک
کبھی کبھی سحر تک

تکیے تلے رکھے ہوئے
خط تمہارے لکھے ہوئے

پڑھنا بھی،تمہیں یاد کرنا بھی
کئی کئی راتیں جاگتے رہنا

تیرے عکس پیچھے بھاگتے رہنا
مجھے یاد ہے مجھے یاد ہے

پچھلے برس برسات کا موسم
مہکی مہکی ہر بات کا موسم

Rate it:
Views: 700
02 May, 2008
More Sad Poetry
" اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے " اے میرے خُدا! ہو کیا گیا ہے، آخر کُچھ پتا تو چَلے مُجھے،
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بَڑی حَسرَت سے رَستوں پر نِگاہیں ، مُنتظر رَہتی ہیں ہر لَمحہ،
جِسے آنا بہت ہوتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کئی خوابوں کی شاخوں پر ، تمناؤں کے پتے جھُولتے رَہتے،
مگر دِل کا مُقَدَّر دیکھیے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کبھی جس کے لیے ہم نے دُعاؤں میں ، چراغ اَکثر جَلائے تھے،
وُہی قِسمت کا لِکھا تھا کہ ، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کِسی کے ہِجر میں آنکھوں نے ، بَرسوں جاگ کر راتیں گُزاری ہیں،
مگر جَب وَقت مِلتا ہے تو وہ ، مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
بہت سے لوگ آتے ہیں، تَعلق جوڑتے ہیں، ساتھ دیتے ہیں،
مگر جو جان سے پیارا ہو، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
یہ دُنیا دَرد والوں کی صَدا سُنتی نہیں، سَمجھو زَمانے کو،
جسے دِل سَچ سے چاہتا ہے، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
جِسے دِل یاد کرتا ہے، وہ مِلےِ بنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
کہے مظہرؔ یَہی قِسمت ہمیں ، ہر موڑ پر رُلوا کے ہَنستی ہے،
جِسے ہم عُمر بھَر چاہیں، وہ مِلے بِنا ہی دُنیا چھوڑ جاتا ہے۔
MAZHAR IQBAL GONDAL