مجھ تو میری محبت ہی پریشان نکلی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), K.S.Aاک مسئلہ ہے جو سمجھ نہیں آتا
تجھے دیکھتے ہی کیوں میری مسکان نکلی
ہر بار درد ہوا ۔ ہر بار جان نکلی
ُاسے الوادع کہتے ہی میری شان نکلی
وہ خاموش مجھے دیکھ رہا تھا جانے تک
ُاسے کیا معلوم پروں تلے میری زمین نکلی
ہر کوئی سنا رہا تھا محبتوں کی کہانیاں
میرے منہ سے تو اپنی ہی داستان نکلی
قلم کی نوک ہے جو درد کو لکھ دیتی ہے
میرے اندر میری روح ہی پیشمان نکلی
چلو کہیں دور چلے جایئں یہ جہاں چھوڑ کر
نجانے کیوں قدم قدم پر دکھوں کی دکان نکلی
ہجر کے لحموں میں خوشی کہاں سے لاؤں
مجھ تو میری محبت ہی پریشان نکلی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






