مجھ سے بیگانہ ہوئے یار وہ دلدار مرے
Poet: Taj Rasul Tahir By: Taj Tasul Tahir, Islamabadمجھ سے بیگانہ ہوئے یار وہ دلدار مرے
پھر بھی ہیں ان تعاب میں فکر مرے
کھول کے دل کو میں اب سامنے رکھدوں انکے
سب سناؤں جو ملیں مجھ سے جفا دار مرے
سر پہ سایہ نہیں اپنے تو بچیں گے کیسے
تب ملے چین ملے شجر سایہ دار مجھے
دل نازک تو کچھ ایسے بھی ہے زخمی زخمی
درد ہیں انکی رفاقت کے طلبگار مرے
ہے ابھی آس کہ اک بار ملیں گے وہ ضرور
انکی تعریف ہیں طاہر سبھی اشعار مرے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






