مجھ سے جدا ہو گیا ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreوہ جب سے مجھ سے جدا ہو گیا ہے
میرا دل بھی مجھ سے خفا ہو گیا ہے
عجب وسوسے دل میں آنے لگے ہیں
خطا کیا ہوئی کیا گناہ ہو گیا ہے
کوئی تو اٹھاؤ پکارو جگاؤ
ارے جاگنے والا ہی سو گیا ہے
دعاؤں میں تاثیر کیوں نہ رہی
ہمارا مقدر کہاں سو گیا ہے
بنا عشق جینا بھی جینا ہے یارو
یہ جیون تو جیسے سزا ہو گیا ہے
جو اپنے لئے بھی کبھی جی نہ پایا
وہی آج تم پہ فدا ہو گیا ہے
بقائے دوام حیات مسلسل
اسی جستجو میں فنا ہو گیا ہے
کسی مہرباں کی نظر کا کرم
بیمار مرگ کی دوا ہو گیا ہے
وہ میری لحد پہ بہت رو گیا ہے
محبت کا وعدہ وفا ہو گیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







