مجھ پر کیوں اس طرح ہنستا ہے
Poet: Mahrukh Zaidi By: Shazia Hafeez, Attockمجھ پر کیوں اس طرح ہنستا ہے
دل بڑی مشکلوں سے بستا ہے
میرے گاؤں کے گھر ہے سب کچے
ارے بادل کہا برستا ہے
جو کبھی لوٹ کر نہیں آئے
ان سے ملنے کو دل ترستا ہے
عاشقی کا مقام کیا ہوگا
جہاں الفت کا بھاؤ سستا ہے
تیرے جانے کے بعد جانے کیوں
ہر کوئی شخص مجھ پہ ہنستا ہے
میری منزل جسے سمجھ بیٹھے
وہ میری خواہشوں کا رستہ ہے
دوست کہتی ہے اس کو کیوں ماہ رخ
جو تجھے ہر قدم پہ ڈستا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






