مجھ کملی کا سنگھار پیا
Poet: فوزیہ رباب By: فوزیہ رباب , Goa Indiaمجھ کملی کا سنگھار پیا
ان سانسوں کا سردار پیا
تجھ بن در، چھت، دیوار ڈسے
تجھ بن سونا گھر بار پیا
ہر جذبے کی پہچان بھی تو
تو سانول ، تودلدار پیا
ان سر آنکھوں پر حکم ترا
میں مانوں ہر ہر بار پیا
تو ہی میرا غمخوار سجن
میں کرتی ہوں اقرار پیا
اب سانسیں چُور و چُورہوئیں
اب آ مل تو اک بار پیا
اک دکھ نے گھیرا ڈال لیا
اب لے چل نگری پار پیا
ہے من اندر اک آس تری
تُو سانسوں کو درکار پیا
ہر منزل پا کر ہجر ملے
سب راہیں بھی پر خار پیا
تو پاکیزہ سی ایک دعا
یہ دل تیرا دربار پیا
اک سکھ سے سوئے وصل ترا
جانے کب ہو بیدار پیا
پھر چاہت کی اک بات توکر
مت چپ چپ رہ کر مار پیا
تک تک راہیں اب نین تھکے
یہ برسیں زار و زار پیا
اب دے ہاتھوں میں ہاتھ مرے
میں اک تیری بیمار پیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







