مجھ کو بھولا نہیں تیرا اقرار کرنا
Poet: Arooj Fatima ( Lucky ) By: Arooj Fatima ( Lucky ), K.S.Aبے وجہ سی تکرار کرنا
دن سے یو ہی رات کرنا
آنکھوں آنکھوں میں
باتیں ہزار کرنا
مجھ کو بھولا نہیں تیرا اقرار کرنا
سمجھ جاؤ کہہ کر
دل پر ہاتھ رکھنا
دھیرے دھیرے سے پھر
فون پر خامشی اختیار کرنا
مجھ کو بھولا نہیں تیرا اقرار کرنا
سوچوں میں ڈوبا دیکھ کر
کاموں میں الجھاء دیکھ کر
اپنے اک جملے سے
مجھے بے اختیار کرنا
مجھ کو بھولا نہیں تیرا اقرار کرنا
اپنے دل کی ہر بات کو
گانوں میں تلاش کرنا
پھر وہ گانا لگا کر
مجھ سے بات کرنا
مجھ کو بھولا نہیں تیرا اقرار کرنا
کبھی کبھی غصے میں
میری ہر بات سے اختلاف کرنا
پھر میری راہوں میں
میرا ہی انتظار کرنا
مجھ کو بھولا نہیں تیرا اقرار کرنا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






