محاذوں پر اترنے کا ارادہ بھول سکتا ہے
Poet: rafiq sandeelvi By: rashid sandeelvi, islamabadمحاذوں پر اترنے کا ارادہ بھول سکتا ہے
کنیزیں ساتھ ہوں تو شہزادہ بھول سکتا ہے
غنیمت ہے کہ میرا نام بھولا ہے فقط اس کو
وگرنہ وہ تو اس سے بھی زیادہ بھول سکتا ہے
اسے کچھ دن تواتر سے کسی زنداں میں لے جاؤ
اسی صورت وہ اپنا گھر کشادہ بھول سکتا ہے
تم اس کے کاغذی میثاق سے دھوکہ نہ کھا لینا
وہ بستی کو اماں دینے کا وعدہ بھول سکتا ہے
سواروں میں اگر تم سب غذا تقسیم کر دو گے
تو پھر جنگی اصولوں کو پیادہ بھول سکتا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






