محبتوں کی کہانی کا رنگ کیا ہو گا
Poet: Sara Afzal By: Sara Afzal, Pakistanمحبتوں کی کہانی کا رنگ کیا ہو گا
بتا دو شام سہانی کا رنگ کیا ہو گا
ہے رات بھگی ہوئی اور دوریاں تم سے
مری سلگتی جوانی کا رنگ کیا ہو گا
نئے ہیں سب سے مراسم تو سوچنا اتنا
وہ کل کی بات پرانی کا رنگ کیا ہو گا
تمہارے رنگ میں رنگی ہوں میں بوند پانی کی
بھلا الگ سے بھی پانی کا رنگ کیا ہو گا
تمہیں بلانے کی ہر بار کوششیں کی ہیں
نجانے یاد دہانی کا رنگ کیا ہو گا
ملے گا دیر سے ہوں گے نئے بہانے کئی
ہے دیکھنا کہ کہانی کا رنگ کیا ہو گا
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






