محبت اگر ہے تو سچ سچ بتا دو
Poet: Shehzad By: Anila, Lahoreمحبت اگر ہے تو سچ سچ بتا دو
عداوت ہے تو زہر لا کر پلا دو
نہیں نفرتوں کی فضا چاہیے اب
نشاں ظلم کا اس جہاں سے مٹا دو
رفاقت لطافت کی باتیں کرو اب
سرِ دست الفت ذرا اور بڑھا دو
نہیں راہے سکتا بنا اب ترے میں
اگر جرم ہے پیار کرنا سزا دو
جدائی نہیں سہ سکوں گا کبھی میں
محبت سے ہاتھوں کو اپنے ہلا دو
نہیں روشنی لگتی اچھی مجھے اب
چراغوں کو آنگن سے اپنے بچھا دو
نہیں چاہیے اور شہزاد کچھ بھی
فقط یار دیدار اپنا کرا دو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






