محبت تم بھی کرتی ھو۔
Poet: umair khadim kamboh By: umair khadim kamboh, lahoreمحبت تم بھی کرتی ھو
محبت ھم بھی کرتے ھیں
تو پھر یھ بے رخی کیسی
تو پھر یھ روٹھنا کیس
چلو
چلو ھم مان لیتے ہیں
محبت میں ضروری ہے
کبھی روٹھ جانا
کبھی بے روخی کرن
مگرجاناں
تمہاراتویہی معمول رہتاہے
مجہے دکھ درد دینا
تمھارااولین اصول رہتا ہے
سنو
ایک حدبھی ہوتی ہے
تم اس حد کواکثر عبور کرتی ہو
کہ جسں سے روکتاہوں میں
وہ تم ضرور کرتی ہو
مجھے تم سے کوئ شکوہ نہیں
نہ کوئ شکایت ہے
اک مشورہ زیرلب ہے
سن لو تو عنایت ہے
دریاے دنیا میں سنبھل کراترو کنارہ کھو نہ جائے
جو مجھ کو تم سے ملانے والا ہے وہ ستارہ کھو نہ جائے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






