محبت جس کی ذیادہ غم بھی اُسی کے
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL, gujranwalaمحبت جس کی ذیادہ غم بھی اُسی کے،
یہی اُصول ہیں کم بخت زندگی کے،
کرو پیار کسی سے بھی دل ہی دل میں
راز بتانا نہ کسی کو بھی عاشقی کے،
پہلے جدائی پھر تنہائی اور پھر موت
حاصلِ محبت یہی ہے بس دل لگی کے،
مر گئے آج ترے فراق میں یم بھی
شکر ہیں ارمان پُورے ہو ئے سبھی کے،
گلے لگایا اُسے بڑے مان بڑے چاہو سے
دم ہی ڈبا دیئے اُس نے ہم ہی کے،
غیروں کے سنگ ہنستے رہے وہ مدِ نظر
نہ کچھ کر سکے حالات یہ ہیں بے بسی کے،
کر دیا بدنام شہر والوں نے ہمیں
اگرچہ چرچے تھے کبھی ہماری سادگی کے،
تجھے بھُلانے کی کوششوں میں سنگدل
ہم انداز بھُول گئے اپنی زندگی کے،
مجھے کون اپنائے گا ترے جانے کے بعد
کون کرئے گا پورے حصے تیری کمی کے،
محبت میں ناکامیاں جب ملے گی تجھے
سیکھ جائو گے خود ہی ہنر شاعری کے،
ملے فرصت تو کسی دن آ جانا نہال
گِنے گے بیٹھ کے درد و غم عاشقی کے،
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






