محبت جو حقیقی ہو تو قسمت ہی سنور جاتی م
Poet: عبدالحفیظ اثر By: عبدالحفیظ اثر, Mumbai, Indiaمحبت جو حقیقی ہو تو قسمت ہی سنور جاتی
محبت جو مجازی ہو تو اُلجھن عَود کر آتی
سنا ہے لیلٰی مجنوں کا تو قصہ جو مجازی تھا
وہ قصہ گر حقیقی ہوتا تو شہرت نہ ہو پاتی
کوئی آساں نہیں ہے دل میں کسی کو بھی بسا لینا
دلوں میں سینکڑوں ہوں گے صنم تو تاب پھر جاتی
محبت گر مجازی ہو تو دیوانگی ہی دیوانگی
محبت گر حقیقی ہو تو دیوانگی نہیں لاتی
محبت گر مجازی ہو تو بس صحرا نَوردی ہی
محبت گر حقیقی ہو تو جوئے شیر کیوں بھاتی
ہماری زندگی تو بس محبت ہی محبت ہے
حقیقی یا مجازی ہو یہ اپنا رنگ دکھلاتی
کسی کی آرزو میں اپنی چاہت بھی مٹا دینا
یہی ہے اثر کی حسرت یہی الفت بھی سکھلاتی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






