محبت خوب ہے لیکن بہت ہی خوب لگتی ہے
Poet: UA By: UA, Lahoreمحبت خوب ہے لیکن بہت ہی خوب لگتی ہے
محب ہوتی ہے لیکن کوئی محبوب لگتی ہے
کہ جب یہ جھلملاتی روشنی بن کر چمکتی ہے
چہکتی بلبلوں کے گیت کے مانند چہکتی ہے
گلوں کی تازگی اور حسن کی وارفتگی بن کر
حسیں جذبوں کے پیراہن میں لپٹی خوب جچتی ہے
محبت خوب ہے لیکن بہت ہی خوب لگتی ہے
محب ہوتی ہے لیکن یہ کوئی محبوب لگتی ہے
ستاروں کی طرح جب آنکھ میںً مستی چھلکتی ہے
تو رخ پہ نور کی بوندوں کی بارش سی برستی ہے
کبھی تو جسم و جاں میں اک نشہ بن کر اترتی ہے
کبھی افلاک کی وسعت سی نظروں میں ابھرتی ہے
سمندر چیرتی لہروں کی صورت ساحل دل پر لپکتی ہے
محبت خوب ہے لیکن بہت ہی خوب لگتی ہے
محب ہوتی ہے لیکن یہ کوئی محبوب لگتی ہے
کبھی تو سرد راتوں میں بھی شعلوں سی دہکتی ہے
کبھی صحرا کی تبتی ریت پہ شبنم کی بوندوں کا
لبادہ اوڑھ کے میٹھے سروں کی مالا جپتی ہے
محبت خوب ہے لیکن بہت ہی خوب لگتی ہے
محب ہوتی ہے لیکن یہ کوئی محبوب لگتی ہے
وہ بہن بھی تو زمانے میں ہے اب نبھاتی ہیں
ماں کی الفت کا کوئی بھی نہیں ہے اب بدل
پر بہن بھی تو محبت میں ہے ایثار نبھاتی ہیں
گھر کے آنگن میں جو پھیلے ہیں یہ الفت کے ضیا
یہ بہن ہی تو ہیں جو گھر میں یہ انوار نبھاتی ہیں
ماں کے جانے کے بعد گھر جو ہے اک اجڑا سا نگر
وہ بہن ہی تو ہیں جو گھر کو ہے گلزار نبھاتی ہیں
دکھ میں بھائی کے جو ہوتی ہیں ہمیشہ ہی شریک
وہ بہن ہی تو ہیں جو الفت میں ہے غمخوار نبھاتی ہیں
ماں کی صورت ہی نظر آتی ہے بہنوں میں ہمیں
جب وہ الفت سے ہمیں پیار سے سرشار نبھاتی ہیں
مظہرؔ ان بہنوں کی عظمت کا قصیدہ کیا لکھیں
یہ تو دنیا میں محبت کا ہی وقار نبھاتی ہیں
زماں میں قدر دے اردو زباں کو تو
زباں سیکھے تو انگریزی بھولے ا پنی
عیاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
تو سیکھ دوسری ضرورت تک ہو ایسے کہ
مہاں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
زباں غیر کی ہے کیوں اہمیت بتا مجھ کو
سماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
سنہرے لفظ اس کے خوب بناوٹ بھی
زماں میں قدر دے اُردو زباں کو تو
بھولے کیوں خاکؔ طیبؔ ہم زباں ا پنی
جہاں میں قدر دے اُردو ز باں کو تو






