محبت دھوپ جیسی ہے
Poet: Ibn.e.Raza By: Ibn.e.Raza, Islamabadمحبت دھوپ جیسی ہے
کبھی سردی کے موسم میں تمازت خوب دیتی ہے
ٹھٹھرتے کپکپاتے تن کی یہ تسکین بنتی ہے
چمن میں کھل کھلاتی ہے گلوں کا دل لبھاتی ہے
کڑی گرمی کے موسم میں کلیجہ آزماتی ہے
جھلستے تپتپاتے گرم جھونکے بن کے آتی ہے
تو گلشن کی تراوٹ سے عداوت بھی نبھاتی ہے
محبت دھوپ جیسی ہے
جلا کر خاک کرتی ہے
محبت باد جیسی ہے
صبا کا روپ لے کریہ طروات دل کو دیتی ہے
کبھی بلبل کے نغموں کو یہ لے کر ساتھ چلتی ہے
بہارورں کی علامت اور سکونِ جان بنتی ہے
مگرا یسا بھی ہوتا ہے کبھی غصے میں آئے تو
پرندوں کےنشیمن کو زمیں پر لاگراتی ہے
کبھی ساگر کی لہروں کی روانی تیز کرتی ہے
محبت باد جیسی ہے
سبھی کچھ روند سکتی ہے
محبت آب جیسی ہے
کبھی بارش کی بوندوں میں مسلسل یہ برستی ہے
کبھی جھرنوں کی صورت یہ پہاڑوں سے نکلتی ہے
زمیں کی بلبلاتی خلق کو سیراب کرتی ہے
طلاطم خیز موجوں کا کبھی یہ بھیس بدلے تو
تناور پیڑ بوٹے سب خس و خاشا ک کرتی ہے
جڑو ں سےتوڑ دیتی ہے بہا کر چھوڑ دیتی ہے
محبت آب جیسی ہے
سبھی کچھ لے گزرتی ہے
کسی کی بزمِ ناز سے اٹھا دیئے گئے تو کیا
خلوص کا مزہ گیا، دہی بنا ہے پیار کا
کسی نے کھو دیا کسی کو لا دیئے گئے تو کیا
ہمیں ذرا بھی خوف سا رہا نہیں ہے خار کا
ہٹا دیئے گئے تو کیا، بچھا دیئے گئے تو کیا
ستم تو دیکھیے ہمیں مہک پہ دست رس نہیں
اسیرِ زلفِ یار بھی بنا دیئے گئے تو کیا
ملی حیات کو نجات کل کی تیرگی سے تو
وفا کی راہ میں ہزار ہا دیّے گئے تو کیا
ہمیں کمالِ ضبط بھی عطا کِیا گیا تو ہے
ستم، ستم کے بعد ہم پہ ڈھا دیئے گئے تو کیا
ملی اگر خوشی کبھی لگا کہ بھول سے ملی
تعاقبوں میں اس پہ غم لگا دیئے گئے تو کیا
کبھی تو ایک دن الگ رہے تو زیست بار تھی
نہ تھے جو بیچ فاصلے بڑھا دیئے گئے تو کیا
رشیدؔ رفعتوں میں ہے کوئی جو دیکھتا ہے سب
گئے دنوں کے درد پھر جگا دیئے گئے تو کیا
مگر میرے پاؤں میں بیڑیاں خاندانی حرمت کی ہیں۔
دل کو قفس سے آزاد کرتے ہوئے، میرے ستمگر کو یہ خیال نہ رہا،
کہ شاید دل میں محبت کی رمق اب بھی باقی ہے۔
میرے بیزارِ محبت کو گمان ہے میرے دل کے کارآمد ہونے پر،
وار اسی لیے وہ کرتا ہے میرے آرامیدہ ہونے پر۔
ہنر ہے میرا کہ میں نے اس کو اب تک سنوار کر رکھا ہے،
ورنہ یہ زخمی و آزردہ دل کب کا مر چکا ہے۔
دل کو اب تک وہ محبت کا فسانہ یاد ہے
وہ گلی وہ شام وہ چہرے وہ ہنسی کے قافلے
آج بھی آنکھوں کو سب کچھ دل کا افسانہ یاد ہے
وقت کی آندھی نے سب نقش مٹا ڈالے مگر
دل کی دیواروں پہ تیرا وہ ٹھکانہ یاد ہے
ہم نے سوچا تھا کہ بھولیں گے تجھے اک دن کبھی
پر ہمیں ہر موڑ پر تیرا بہانہ یاد ہے
کچھ تعلق وقت کے ہاتھوں بچھڑ جاتے ہیں مگر،
دل کو ہر رشتہ، ہر اک گزرا زمانہ یاد ہے
اب بھی تنہائی میں جب چاند نکل آتا ہے
تیری باتوں کا وہ پیارا سا خزانہ یاد ہے
زندگی آگے تو بڑھتی ہی رہی مسعود مگر
دل کو بچپن دل کو وہ گزرا زمانہ یاد ہے
ہر ایک صبح یہاں بن کے سوگ ساتھ رہے گی
چنار شاخ پہ بیٹھا پرندہ بھی سہما ہوا ہے
کہ گولیوں کی صدا اب تو دن کی بات رہے گی
جنازے اٹھتے ہیں، مائیں ہیں پتھرائی ہوئی سی
یہ کس کے نام لکھوں کون سی حیات رہے گی؟
جھیلِ ڈل کا پانی بھی اب سوال کرتا ہے
کہ کتنے خواب ڈبوؤ گے کب یہ گھات رہے گی؟
وہ اسکول بند پڑے ہیں، کتابیں جل رہی ہیں
بتاؤ اے مرے رب نسل کب نجات پائے گی؟
کبھی تو تھا یہ چمن امن کا گہوارہ لیکن
اب اس زمیں پہ فقط آہ کا ثبات رہے گا
لہو سے لکھتے ہیں ہم داستاں کشمیر کی
یہ داستاں نہ سہیںپر یہ کائنات رہے گی
مسعودؔ دردِ وطن کو قلم میں ڈھالتا رہے گا
جب تک لہو میں حرارت ہے یہ صدا ساتھ رہے گی
دل کو مبتلائے غم کر کے مسکرا رہا ہے صنم






