محبت راز ہے آخر پردہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Poet: Rose anmol By: ROSE Anmol, Sargodhaمحبت راز ہے آخر پردہ
اٹھاؤ تو اٹھاؤ کیسے
تم انجان ہو چاہت سے میر ی آخر
تمہیں اپنا بناؤ تو بناؤ کیسے
بے خبر ہو تم محبت کے المیے سے
آخر المیہ سمجھاؤ تو سمجھاؤ کیسے
ٹوٹ رہی ہے یہ سانسیں تم بن آخر
یہ راز تمہیں بتاؤ تو بتاؤ کیسے
سجاۓ ہے خواب تم نے بھی انکھوں میں
آخر انھیں راہ منزل پہنچاؤ تو پہنچاؤ کیسے
پھر ٹوٹ کر بکھرا ہے یہ دل کرچی کرچی
آخر مسکراؤ تو مسکراؤ کیسے
اشک پلکوں پہ روکے ہےآخر
اشک چھپاؤ تو چھپاؤ کیسے
آج ہرا ہےیہ دل کیس کی جیت میں آخر
ہار کا سوگ مناؤ تو مناؤ کیسے
لوگ بھول جاتے ہے گزرے زمانے کو
آخر تمہیں زمانہ بناؤ تو بناؤ کیسے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






