محبت رقص کرتی ہے
Poet: Ahsan Mirza By: Ahsan Mirza, Karachiدلوں میں چھپ نہیں سکتی
نگاہیں بول پڑتی ہیں
کبھی اشکوں کو پلکوں پر سجائے بین کرتی ہے
بہت بے چین کرتی ہے
حیا کی روشنی معنی بدل کر لب پر آتی ہے
سکوتِ وصل میں اکثر
یہی باتیں کراتی ہے
ہزاروں بردہء باطن میں چھپ کر بھی سرِ محفل
نگاہِ شوق کی گردش
وفائوں کا بتاتی ہے
سرِ محفل یہ الفت کے
ہزاروں دشمنوں کے بیچ
کہاں خاموش رہتی ہے
کہاں تہمت سے ڈرتی ہے
محبت رقص کرتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






