محبت سے میری ضرورت کب بن گیا
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaہ محبت سے میری ضرورت
کب بن گیا تمہیں پتاء ہی نا چلا
کیسے نکل گئی میرے ہاتھوں
سے ریت تمہیں پتاء ہی نا چلا
جو پھول کبھی کھلا ہی نہیں
ہو گیا راکھ ، تمہیں پتاء ہی نا چلا
راستے تو ایک طرف ہیں دل کی دوریاں کیسے مٹے گئی
وہ ساتھ رہ کر بھی رہا ُجدا تمہیں پتاء ہی نا چلا
بے جان جسم میں چپکے سے جلتا رہا
یاد کا دیا ، تمہیں پتاء ہی نا چلا
رات کے سنٹاتے پھر کر رہے دیدار کا مطلبہ
تڑپ رہی ہیں میری روح ، تمہیں پتاء ہی نا چلا
کیا اتنا آسان تھا مجھ سے راستہ بدل لینا
میرے لب پے تھا تمہارا نام ، تمہیں پتاء ہی نا چلا
دھوکہ ۔ فریب ۔ محبت میں کہا ہوتا ہے لکی
ہم لگا رہیں ہے جان کی بازی ، تمہیں پتاء ہی نا چلا
نا تھی اب ُاسے مجبوری ۔ اور نا رہی راہ میں دوری کوئی
بدل لیا ُاس نے اپنا خیال لکی اور تمہیں پتاء ہی نا چلا
ملنا بچھڑنا ۔ بچھڑ ۔ کے مل جانا یہ رواج ہیں زمانے کا
سامنے راہ کر بھی رہنا ُجدا اس رواج کا ، تمہیں پتاء ہی نا چلا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
تمہیں ہم سے ہے بےزاری، مان لیتے ہیں
ہماری جان لینے والو! اتنا جان رکھو
ہم اپنی جان بھی تم پر ہی وار دیتے ہیں
وقتِ مرگ میرے جنازے پہ آ کے دیکھو
جو روتے ہیں، انھیں ہم اب حساب دیتے ہیں
مری تربت پہ اتنے اشک نہ بہا پروین
ہمیں کافور کے غسل کا حکم دیتے ہیں
تم سے کن حالات میں کیسے محبت سے وفا نبھا رہا ہے کوئی
ہو گی قدر تمھیں اس وقت جب پتہ چلے گا ہماری چاہت کا
دیکھو ادھر اک نظر کس قدر پیار سے تم کو منا رہا ہے کوئ
جان ہے کہ جا ئے جا رہی ہے یونہی .
تمھاری بے رخی پہ دور جا رہا ہے کوئی .
کس قدر مشکل میں ہے جاں بینا تم ہی نہ جانو
بن کہے پیار سے پیار تم سے نبھارہا ہے کوئی






