محبت مار جاتی ہے
Poet: عائشہ بیگ عاشی By: Manahil Baig, Karachiکہا اُس نے
گلستاں کو محبت ہے بہاروں سے
کہا میں نے
خزاں تو پھر بھی آنی ہے
کہا اُس نے
محبت چاند سی روشن
کہا میں نے
کرن کب ہاتھ آتی ہے
کہا اُس نے
محبت کھیل دل کا ہے
کہا میں نے
محبت تو ہراتی ہے
کہا اُس نے
پتنگے کو کبھی دیکھا
کہا میں نے
محبت تو جلاتی ہے
کہا اُس نے
محبت اک نگینہ
کہا میں نے
دکھوں کا ایک زینہ ہے
کہا اُس نے
محبت تو ستارا ہے
کہا میں نے
اسے تو ڈوب جانا ہے
تو پھر کب یہ ہمارا ہے
کہا اُس نے
محبت میں جہاں کا حسن سارا ہے
کہا میں نے
یہ بہلاوا ہے اور بس استعارہ ہے
کہا اُس نے
اری پگلی
محبت کر کے تو دیکھیں
یہ رنگینی نگاہوں کو دکھاتی ہے
کہا میں نے
ارے چھوڑو
کہاں پھر دیکھنے کا وقت ملتا ہے
محبت مار جاتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






