محبت میں لوح و قلم رو رہے ہیں
Poet: zaigham jaffery By: zaighm jaffery, Daskaمحبت میں لوح و قلم رو رہے ہیں
دیوانو! کہ دیر و حرم رو رہے ہیں
سکوں تو ملا آج روحوں کو لیکن
وہ رکھ کر وفا کو بھرم رو رہے ہیں
یہاں رو رہے ہیں ستم سہنے والے
وہاں خود وہ کر کے ستم رو رہے ہیں
ہمیں اس جہاں سے نہیں کوئی شکوہ
کرم ہے صنم کا جو ہم رو رہے ہیں
تمہیں اس جدائی کا شاید کہ غم ہو
یہ نَینا مِرے دم بدم رو رہے ہیں
جنہیں کچھ بھروسہ نہیں ہے وفا پر
وہ ساتوں کے ساتوں جنم رو رہے ہیں
مصیبت کے مارے تو روتے ہیں اکثر
نا جانے کیوں اہلِ کرم رو رہے ہیں
غمِ جعفری پڑھ لیا جب سے مَیں نے
مِرے دیدہ و دل صنم رو رہے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






