محبت میں وفا ہی تو مانگی تھی
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaمحبت میں وفا ہی تو مانگی تھی
میرا دل جان دینے پے تیار نکلا
یہ کیسا ہجر ہے وہ سمندر کی طرح خاموش
اور میں لہروں کی طرح بقیرار نکلا
یہ وقت کی سازش کہا لے آئی مجھے لکی
مٹی ہیں وجود میرا مگر غم پہاڑ سے بھاری نکلا
یہ مسافتیں ۔ یہ دوریاں کس طرح طے ہو گیی
میں نے قدم ہی بڑھیا تھا اور پروں تلے جہاں نکلا
سجدے میں گرا تو فقط معافی کے کچھ یاد ہی نا رہا
مگر جب بھی ہاتھ ُاٹھایا لبوں فقط ُاسی بے وفا کا نام نکلا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






