محبت پارٹ 6
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیامحبت سے ہی سے قائم ہے یہ رقنق ساری دنیا کی
محبت کی فضا میں ہی چل ہے یہ گاڑی دنیا کی
محبت سے جو قائم ہین وہ سب رشتے مقدس ہیں
بہن بھائی کے اور ماں باپ کے نام مقدس ہیں
محبت ہی تو ہے جس سے یہ پھتر دل پگھلتے ہیں
محبت ہی تو ہے جس سے سب ہی اطفال پلتے ہیں
سب ہی کے کام میں آنا محبت ہی سکھاتی ہے
سلیقہ زندگانی کا محبت ہی سکھاتی ہے
محبت ہی سکھاتی ہے پرائے غم کو اپنانا
محبت ہی سکھاتی ہے آگ میں غیروں کی جل جانا
محبت کو سدا ہی بؑغض و کینے سے عداوت ہے
کہ قائم ہے جو یکجہتی محبت کی عنایت ہے
محبت کے کرم سے سارے کام بن جائیں
محبت سے پرانی دشمنی کے زخم بھر جائیں
محبت ہو اگر قائم ترقی ملک کرتا ہے
کہ روزی روٹی ملنے پر سبھی کا پیٹ پلتا ہے
محبت سے ہی یکجا ہیں یہ مسلم،سکھ عیسائی
گلے باہم ملیں وشمہ کہ جیسے ہوں سگے بھائی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






