محبت پر معمور
Poet: Shehzad Owaisi By: Shehzad Owaisi, Karachiمحبت کبھی بھی انسان کو
خود غرض نہیں بناتی
جس شخص کے دل میں
بس جاتی ہے محبت
جو شخص معور ہو محت کیلئے
پھر اُس دل میں کبھی عداوت نہیں آتی
اُ س کے دل میں کبھی
بغض و کینہ نہیں آتا
ہر انسان سے کرتا ہے وہ شخص محبت
ہر انسان کی کرتا ہے ہر حال میں عزت
ًمحبت تو ہے قربانی کا دوسرا نام
یہ لینا نہیں جانتی
اسکے دائرے کرم کا
کوئی اندازہ نہیں کرسکتا
اس کیفیت کو ہر کوئی
سمجھ نہیں سکتا
دنیا کیا جانے ؟
کیا چیز ہے محبت؟
جس دل میں آبسی ہو محبت
اس دل پر، اُس ذی روح پر
رب کی عنایت ہے، کرم ہے، فضل ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






