محبت کس کو کہتے ہیں؟؟
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillجو تو نے مجھ سے پوچھا ہے محبت کس کو کہتے ہیں
تمہیں اب کیسے سمجھاؤں بغاوت کس کو کہتے ہیں
عجب قصہ ہے یہ جاناں میرے حسن معانی کو
سرابوں نے ہی سمجھایا حقیقت کس کو کہتے ہیں
کسی کے خیال کی چوکھٹ پہ رکھ دینا جبینوں کو
ہے گر یہ بت پرستی تو عبادت کس کو کہتے ہیں
جو ہر اک بات میں ڈھونڈے کوئی پیغام نفرت کا
اسے معلوم ہی کیا ہو عقیدت کس کو کہتے ہیں
تیرے لب کے اشارے سے معطر سارا گلشن ہے
تیری مسکان سے بڑھ کر شرارت کس کو کہتے ہیں
گل و مہکار کے پردے میں تیرا ذکر ہوتا ہے
میرے اشعار سے پوچھو جسارت کس کو کہتے ہیں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






