محبت کیا نہیں ہے
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملائیشیاتری خاطر جو سہتی ہوں
محبت کیا نہین یہ بھی؟
ترے احساس ،تیرے نام کو لے کر
بِتائی زندگی میں نے
محبت کیا نہیں یہ بھی؟
ترے چہرے کی مجھکو جستجو ہے ہر طرف
مہتاب کے رخ میں بھی تو
کھبی چاند تاروں میں
محبت کیا نہیں یہ بھی؟
ترے خوابوں کو آنکھوں سے
چھلکتے دیکھتی ہوں میں
محبت کیا نہیں ہے
تری یادوں کی قندیلیں
ہوئیں روشن مرے دل میں
تو روتی ہوں،تڑپتی ہوں
محبت کیا نہیں یہ بھی؟
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






