محبت کی ادا
Poet: Shama By: Shama Chaudhry, wales ukشبِ تنہائی کی ریشم قبا آغوش میں لے لے
گئے موسم کی اے یادِ وفا آغوش میں لے لے
صدف جیسے چھپا کر گہر کو سینے میں رکھتی ہے
مجھے ایسے محبت کی ادا آغوش میں لے لے
برسنے کو میرا بھی چاہتا ہے دل گھٹا بن کر
ذرا مجھ کو بھی بادل کی رِدا آغوش میں لے لے
میرے اندر اُمڈ آیا ہے طوفاں خیز سا عالم
سفینہ دل کا میرا نا خدا آغوش میں لے لے
ہوائے تُند خُو شمعِ فروزاں کو ڈراتی ہے
کسی مخلص کی اے سچی دعا آغوش میں لے لے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







