محبت کی اک پاگل پری
Poet: T-Malik By: T-Malik, Lahoreمحبت کی اک پاگل پری
اڑتے اڑتے دور جا نکلی
اک ندی میں عکس جو دیکھا
اک سایہ سا لہرا رہا تھا
سات سمندر دور کا راجہ
اپنے گھوڑے دوڑا رہا تھا
ہاتھوں کی اوک سے پیتا پانی جھک سا گیا
پری کی جھلک دیکھھ کے راجہ رک سا گیا
محبت کی بانسری زور زور سے بجنے لگی
اس پری کے پنکھ تھامے ساری خوشیاں ہنسنے لگی
راج کمار نے گھٹنے ٹیکے
پوچھا ہاتھھ پھیلا کے
میری ملکہ بن جاؤ تم
میرے دیس میں آ کے
پری کی دنیا تو بادل ہے
راجہ کی دنیا دیس
دونوں میں محبت ہے
پر اپنے اپنے بھیس
قطرہ قطرہ پگھل رہی ہے
راجہ کی رانی تڑپ رہی ہے
محبت کا رقص تو جاری ہے
پر محبت کی بانسری ٹوٹ گئی
پری راجہ سے روٹھ گئی
پری راجہ سے روٹھ گئی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad







