محبت کے دیئے بجھانے سے پہلے (٢)
Poet: NEHAL GILL By: NEHAL , Gujranwalaمحبت کے دیئے بجھانے سے پہلے
نفرتوں کے چراغ جلانے سے پہلے
اے منضف مرا ظلم تو سُن لے ذرا
کوئی بھی سزا مجھے سُنانے سے پہلے
اور بھی کہیوں نے کیا عشق یہاں
مرے اَس زمانے سے پہلے
ترے غم میں حالت ایسی ہے مری
آنسو آجاتے ہیں مسکرانے سے پہلے
لہریں روئی تباہ کرکے مرا سفینہ
طوفان روئے مجھے دُبانے سے پہلے
غمِ داستان جس نے مری بیان کی
رویا کہانی سُنانے سے پہلے
مرے دشمنوں نے بھی مرا ماتم کیا
مری میت اُٹھانے سے پہلے
اب بُلاتے ہیں تو بھی نہیں آتے
پہلے چلے آتے تھے بلانے سے پہلے
نہال سُنا ہے وہ بھی بہت رویا تھا
مرے تمام خط جلانے سے پہلے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






