محبت ھو گئی تو کیا کریں گے؟
Poet: Dr Qamar Siddiqui By: Dr Qamar Siddiqui, kharianمحبت ھو گئی تو کیا کریں گے
تمھاری یاد سے الجھا کریں گے
اندھیری رات کے آنگن میں جاناں
تیری تصویر سے کھیلا کریں گے
تجھے ہم اپنے شعروں میں سجا کر
تیرے “احساس“ کی پوجا کریں گے
گلابوں میں جو دیکھی تتلیاں تو
تمھارے لمس کو سوچا کریں گے
ھم اپنی ڈائری میں جان جاناں
تمھاری فرقتیں لکھا کریں گے
کہاں ھو کس طرح ھو کس کے سنگ ھو
ہم اکثر چاند سے پوچھا کریں گے
وہ رستے جن پہ تھے تم ساتھہ میرے
تیرا پوچھیں گے تو رویا کریں گے
تمہاری یاد میں دن رات کھو کر
ہم اپنے آپ سے روٹھا کریں گے
کٹھن راہوں میں پڑ کر کیا کریں گے
ہم اپنے آپ کو تنہا کریں گے
تمہارے عشق میں بن کر تماشا
ہم اپنے آپ کو رسوا کریں گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







