محبت ہوا نہیں ہوتی
Poet: IMTIAZ SHARIF IMTIAZ By: RAAZ BHANEWALI, SIALKOTمحبت ہوا نہیں ہوتی
محبت ہوا نہیں ہوتی
پیارے محبت ہوا نہیں ہوتی
جو پل بھر کے لئے اٹھی
پھر ہو گئی اجنبی
بلکہ محبت اس شاخ کی مانند ہے
جوہری ہو تو پیڑ کو
چھاؤں دیتی ہے
گر سوکھ بھی جائے تو
شجر سے جڑی رہتی ہے
گرٹوٹ بھی جائے تو
شجر کے قدموں میں پڑی رہتی ہے
گرزمانے والے اٹھالے بھی جائیں اس کو
بڑی بے رحمی سے جلائیں اس کو
تو بھی یہ راکھ بن کر
شجر کے گرد طواف کرتی ہے
اپنی چاہت کا رنگ چڑھاتی ہے
اپنی وفا نبھاتی ہے
پیارے محبت بے وفا نہیں ہوتی
پیارے محبت ہوا نہیں ہوتی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






