محبت ہوگئی ہے
Poet: By: Azhar Iqbal Butt, Karachiجب تم بے بات مسکرانے لگو
زبان پر نغمے خوشی کے لانے لگو
تمہارے ارد گرد سب کچھ اچھا ہو
تمہارا ہر قول سچا ہو
کسی کا نام سن کر چہرہ بدل جائے
دل میں خوشی کا پھول کھل جائے
جب محفل میں کھو جاؤ کہیں
کسی کے خیالوں میں سو جاؤ کہیں
آتے جاتے گنگنانے کو جی چاہے
کسی کی طرف جانے کو جی چاہے
کچھ لکھ کر مٹا دو
رات کو دیا جلادو
چاند کے ساتھ باتیں کرو
جاگ جاگ کر بسر راتیں کرو
پیش لفظوں کی سوغات کرو
ہر بات میں اسی کی بات کرو
تو پھر
سمجھ لو کہ
محبت ہوگئی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






