محبت ہو گئی تو کیا کرو گے
Poet: muhammad nawaz By: muhammad nawaz, sangla hillتماشہ عشق کا دیکھا کرو گے
ذرا سی جان ہے کیا کیا کرو گے
ابھی باریک باتوں کو نہ چھیڑو
کھلونے توڑ کے رویا کرو کے
دن میں آئے گا نہ سکون تجھے
رات بھر سوچ میں تڑپا کرو گے
یوں سرابوں میں بکھر جاؤ گے
ندی میں چاند کو ڈھونڈا کرو گے
جگنوؤں سے کبھی مانگو گے سورج
تتلیوں کو کبھی پکڑا کرو گے
خود فریبی تمہیں اچھی لگے گی
آئینے سے کبھی روٹھا کرو گے
کرو گے باتیں پھر کتابوں سے
رات بھر ڈائری لکھا کرو گے
کسی کے نام کی لکھ کر نظمیں
شدت آس میں چوما کرو گے
لگے گا دل کہاں پھر دوستوں میں
یوں اپنے آپ کو تنہا کرو گے
نظر کے پیش وہ راہیں ہی ہونگی
کوے منڈیر پہ دیکھا کرو کے
حنا کی خوشبوئیں بے چیں کریں گی
گزرتے وقت سے شکوہ کرو گے
ابھی تاروں ۔ گلوں ۔ کلیوں سے کھیلو
کٹھن باتوں میں پڑ کے کیا کرو گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







