محبت یاد آتی ہے
Poet: عمیر اکبر By: umair Akbar tabish , Rawalpindiکبھی نہ میں شاعر تھا
نہ لکھا لکھا تھا کبھی میں نے
لفظوں میں نہیں اتا تھا یوں جذبات کو لکھنا
کسی احساس کو لکھنا
یہ کمال محبت ہے جس نے مجھ کو سکھلایا
تھمایا ہاتھ میں قلم اور کاغذ مجھ کو پکڑایا
جو دیکھا تو تصو ر میں تیرا چہرہ نظر آیا
مصور تو نہیں تھا جو کوئی تصویر بنا ڈالے
نہ شاعر اتنا اچھا کے کوئی تحریر بنا ڈالے
تیری یادیں تیری باتیں تیرا وہ مسکرانا اور
غصے میں تیرا یوں ہی بس روٹھ جانا اور
مجھے پھر سے منانے کا مل جانا بہانہ اک
کتنے اچھے لگتے ہیں وہ یادوں کے سبھی منظر
جو تیری قربت میں گزرے تھے
زہر میٹھا یہ پی کر بھی ، جدائی میں جی کر بھی
ہونٹھوں پہ تبسم کیوں ناجانے آ ہی جاتا ہے
تیری یادوں میں تابش وہ آج بھی جب مسکراتی ہے
محبت یاد آتی ہے ، محبت یاد آتی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






