محبت
Poet: naila rani By: naila rani, karachiدل کے در وا زے پر
کو ئی د ستک د یتا ہے
بند در یچے کھلنے لگتے ہیں
پھول کھلنے لگتے ہیں
قطرہ قطر ہ شبنم بھی
رو ح پر گر نے لگتی ہے
اک ذرا سی آہٹ پر
درد مچلنے لگتے ہیں
بے و جہ ہنستے ہنستے یو نہی
آ نسو بہنے لگتے ہیں
ا جنبی سے چہرے بھی
اپنے اپنے لگتے ہیں
خیا لوں کی د نیا میں
سپنے سجنے لگتے ہیں
خزا ں کے مو سم میں
کو بپلیں ا بھر تی ہیں
چا ند اور ستا رے بھی
چال چلنے لگتے ہیں
ا نتہا ئے محبت میں آ کر
عشق بلا وہ آتا ہے
عشق کے سمندر میں
محبت ڈو ب جا تی ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






