محسوس کرو گے تو جان بھی لو گے
Poet: Rubin Biswas By: Rubin Biswas, Karachiسبز گھنیرے شام کے چہرے
محسوس کرو گے تو جان بھی لو گے
آنکھوں میں شبنمی اوس کی نمی
محسوس کرو گے تو جان بھی لو گے
ستارہ ستارہ ٹمٹماتی کلی
محسوس کرو گے تو جان بھی لو گے
سرخ سبز نیلی پیلی اودھی بھوری
گہری سوج میں ڈوبی ہیں یہ وادیاں
جانے کب جاگے گی یہ خوابوں سے
محسوس کرو گے تو جان بھی لو گے
چاند انکو جاندنی سے جگائے
مگر ان کی خاموشی اف نہ کرے ایسی
یہ مدھوشی
محسوس کرو گے تو جان بھی لو گے
ٹہر گئی یہ رات بھی انسیت ایسی
محسوس کرو گے تو جان بھی لو گے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






