محفلوں میں بھی بیچن کر جاتی ہو
Poet: AF(Lucky) By: AF(Lucky), Saudi Arabiaکیا بتاوں تمہیں کہ
تم کتنا یاد آتی ہو
مجھے روشنی دکھا کر
خود کیسے جلتی ہو ؟
میری راہوں میں پھول
بچھا کر خود کانٹوں
پے کیسی چلتی ہو ؟
میری ہاں میں ۔۔۔۔۔۔ ہاں کرتی ہو
میری نا میں ۔۔۔۔۔۔ نا کرتی ہو
تم اپنی خواہشوں کو
کیوں دباتی ہو ؟
ملتی ہو ہر بار
خوش ہو کر
تم اپنے آنسوں کو
کہا چھپاتی ہو ؟
کیوں کرتی ہو
اتنی محبت مجھ سے ؟
کہ مجھے پتھر سے
موم بناتی ہو
کیوں عادت ڈال دی ہے
مجھےاس قدر اپنی کہ
اب مجھے محفلوں میں بھی
بچین کر جاتی ہو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






