محمد مسعود نوٹنگھم برطانیہ
Poet: تیری قربت کا نشہ By: Mohammed Masood, Nottinghamتیری قربت کا نشہ کچھ ایسا چڑھ گیا ہے
تجھے دیکھا نہیں اور دل بگڑ گیا ہے
تیرے لہجے میں محبت کی مٹھاس ایسی ہے
سن کر تیرا نام، لب خود ہی سنور گیا ہے
تو جو چلتی ہے تو ہوا بھی رک جاتی ہے
تو جو ہنستی ہے تو موسم بھی نکھر گیا ہے
ہم نے دنیا سے کنارہ کر لیا ہے اب تو
تیرا ہو کر جینے کا ہنر آ گیا ہے
مسعودؔ اسے بتاؤ، اس کے بنا جیا نہیں جاتا
اس کی ایک جھلک سے سارا جہاں سنور گیا ہے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






