محو ء تماشہِ حیات
Poet: saba hassan By: saba hassan, Lahoreتھام کر کاغذ ھاتھ میں
دبا کر قلم دانت میں
محو ء تماشہِ حیات ہوں رقم کیا کروں
ورق ِ غمگسار پہ
چاک گریباں کرتی ھوئی
ھر لمحہ ءگریزاں
ٹٹولتی ھوئی
ماضی کے قافلے
کھوجتی ھوئی
فرداء کے فاصلے
ست رنگی من چاھے حال کے تلازم
آنچل میں سنبھال کے
محو ء تماشہِ حیات ہوں رقم کیا کروں
موند کر آنکھیں مانپتی ھوئی
تیرے حسن کے تراشے
جانچتی ہوئی
سماعتوں کی گود میں سجا کر
تیرے مدھر کلمات کی لوری
ڈگ بھرتی ھوئی پل بھر میں کبھی
آھستہ اھستہ خراماں خراماں
خیالوں میں تیرے ساتھ
یکدم ویرانیوں کے پہلو میں
قہقہہ فلک شگاف
کبھی ھلکا سا مانوس سا تبسم
لجاتا ہوا میرے لب پہ
گویا
اس خرابے میں
ھجر کے عالم میں
تو ھو میرے ساتھ
مگر تا حال
محو ء تماشہِ حیات ہوں رقم کیا کروں
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






