محو تنقید تھے ذات پر رات بھر
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامحو تنقید تھے ذات پر رات بھر
شمع جلتی رہی ہاتھ پر رات بھر
کوئی حتمی نتائج نہیں مل سکے
ہم نے سوچا بہت ساتھ پر رات بھر
یوں تو میرے رہی ہمسفر چاندنی
درد بہتا رہا گھات پر رات بھر
جیت اپنی بھی میں نے اسے بخش دی
جس نے شکوہ کیا مات پر رات بھر
تو تھا میرے لئے آخری شب کا چاند
پھر بھی خوش تھی ترے ساتھ پر رات بھر
کچھ تھے وشمہ مرے ساتھ پر خوش بہت
کچھ تھے برہم مری بات پر رات بھر
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






