محو گفتگو ھوں گے جب چاند كی آغوش ميں دونوں
Poet: Neelam By: Neelam, Lahoreخود كو بےتاب ہر پل تيرے عشق ميں كرلوں گی
تجھے اس قدر چاہوں گی كہ قيامت كروں گی
جس سحر انگيز منظر ميں تجھے پہلی بار ديكھا تھ
گر ياديں بھولنا چاہيں سوچوں سے بغاوت كروں گی
قيامت خيز لمحوں ميں تيری قربت ميں بہكوں گی
بكھرے ہوئے تمام جزبوں كی مزمت كروں گی
سر با سجود جس گھڑی خدا سے تمہيں مانگوں گی
جہاں كے سجدہ ريز ديوانوں سے عقيدت كروں گی
حرف دعا ميں شامل لبوں پر وصل كی
شام ہو جائے
ميں جب تک جئيوں گی تيری چاہت كروں گی
زمانہ روكنا چاہے مجھے جو تيری محبت سے
دنيا كے ظالم رواجوں سے عداوت كروں گی
تقدير كے نصابوں سے گر تيرا نام مٹ جائے
بخدا قسمت كی لكيروں سے نفرت كروں گی
محو گفتگو ھوں گے جب چاند كی آغوش ميں دونوں
روشن ستاروں كے جھرمٹ ميں تم سے الفت كروں گی
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







