مرا وجود کہیں اور رہا نہیں ہوتا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیامرا وجود کہیں اور رہا نہیں ہوتا
غبار آئینۂ میں فنا نہیں ہوتا
لہو کا رنگ جھلکتا ہے آنسوؤں میں کہیں
نہ خاک دل سے مرا حوصلہ نہیں ہوتا
اس انتشار میں کوئی پتا نہیں چلتا
جو گرد بیٹھے ہے تو اک ادا نہیں ہوتا
چمک اٹھی ہیں کھنڈر کی شکستہ دیواریں
کدھر سے رنگ و بو کا قافلہ نہیں ہوتا
نہ جانے کیا ہے کہ جب بھی میں اس کو دیکھتی ہوں
جو کوئی اور ہو تو رو بہ رو کھڑا نہیں ہوتا
لیے دیئے ہوئے رکھتا ہے خود کو وہ لیکن
جہاں بھی غور سے دیکھو نیا نہیں ہوتا
جڑا ہے ذات سے اس کی ہر ایک شعر اس کا
جو پتا شاخ سے توڑا ہرا نہیں ہوتا
نہ دھند چھٹتی ہے آنکھوں کے سامنے سے کبھی
کہ اس جہاں میں کوئی دوسرا نہیں ہوتا
نہ چاند ابھرتا ہے دیوار شب سے وشمہ کئی
نہ سر و غم سے کسی قد بڑا نہیں ہوتا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






