مری بات سن مرے اجنبی مرا انتظار کہاں رہا
Poet: وشمہ خان وشمہ By: وشمہ خان وشمہ, ملایشیاترا پیار تھا کہ عذاب ہیں وہ دلوں کا پیار کہاں رہا
"یہ سکوں کا دور شدید ہے کوئی بے قرار کہاں رہا
کہوں کس طرح میں وثوق سےکہ وہ آب ہیں یا سراب ہیں
وہ کرم بلا کا عتاب میں ہیں وہ انکسار کہاں رہا
مری تشنگی کو بڑھا گیا کہ ترا ادھورا جواب ہیں
مری بات سن مرے اجنبی مرا انتظار کہاں رہا
ہے بڑی تپش اسے ڈھونڈیے جو تمازتوں میں سحاب ہیں
مجھے کر عطا وہی رنگ و نور کے سازگار کہاں رہا
مرے پاؤں زخموں سے چور ہیں ترا راستہ بھی خراب ہیں
کوئی اور مجھ سے نہ مہربان وہ پیار پیار کہاں رہا
چلو زیست یوں بھی گزر گئی یہ کہ مشکلات کا باب ہیں
کبھی رنگ بن کے مری ہتھیلی میں قید یار کہاں رہا
ترا خط ہے یا کہ عزاب ہے مرے جان جاں بتا یہ
مجھے زہر بھیجا ہے لفظ میں مرا حرف زار کہاں رہا
تو سراب زاروں میں اب نہ مجھ کو نڈھال کر نہ اے وشمہ جی
تجھے ساتھ اپنے میں لے چلوں ترا اعتبار کہاں رہا
تم ہم سے منانے کی بات کیوں کرتے ہو
ہم یونہی پیار کر لیتے ہیں تمھیں
ہمیں تڑپانے کی بات کیوں کرتے ہو
اس بے رخی میں کتنی محبت ہے چھپی
پیار ہے پھر ترسانے کی بات کیوں کرتے ہو
باتیں ساری تم سے وابستہ اچھی لگتی ہیں
کیوں نہیں انھیں دھرانے کی بات کرتے ہو
جتنی چاہت چاہو گے ہم کریں گے تم سے
پھر بینا سے آزمانے کی بات کیوں کرتے ہو
انکھیوں میں تمھیں چھپا کے
پرستان تمھیں لے جا کے
رکھیں گے اپنا بنا کے
سنگ ہونگے نکاح سے
ہم اللہ کو گواہ بنا کے
خوشیاں منا کے
گھر تم سے بسا کے
چاند کی ٹھنڈک میں
مدھم مدھم روشنی میں
ہلکی ہلکی بارش میں
روپہلی دھوپ سنہری میں
ہولے ہولے دل ڈھڑ کتے
دھیرے دھیرے سانس چلتے
چاہت میں ڈوبے ڈوبے
اک دوسرے سے پیار کرتے
آپ کی شہد سی میٹھی باتوں میں کھوئے رہیں گے
بینا آپ کے ہوکے ہم آپ کے ہی ہوئے رہیں گے






