مرے اشعار ہیں سب زندگی کے
Poet: Amer Roohani By: Amer Roohani, Islamabadسہولت کار ہیں سب زندگی کے
مرے اشعار ہیں سب زندگی کے
بجز ساقی نہیں کوئی مسیحا
کہ ہم بیمار ہیں سب زندگی کے
بجا ارشاد! ہے سب زندگی تک
بجا سرکار! ہیں سب زندگی کے
سرائے عارضی ہے جائے دنیا
کرایہ دار ہیں سب زندگی کے
ادب ملحوظ بر شہرِ خموشاں
یہاں دربار ہیں سب زندگی کے
اجل رستہ ہے دائم زندگی کا
سو آخرکار ہیں سب زندگی کے
ستاروں پر نہ کچھ بھی مل سکے گا
ہمی کردار ہیں سب زندگی کے
جنہیں میں ڈھونڈتا ہوں اِس جہاں میں
امـؔـر اُس پار ہیں سب زندگی کے
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






