مرے اندر بغاوت ہو رہی ہے۔۔۔
Poet: وشمہ خان وشم By: وشمہ خان وشم, ROMANIAمجھے تم سے محبت ہو رہی ہے
کبھی تم دل کی دھڑکمرے اندر بغاوت ہو رہی ہے
مجھے تم سے محبت ہو رہی ہے
کبھی تم دل کی دھڑکن سے تو پوچھو
اسے کیا میری عادت ہو رہی ہے؟؟
ہوئے آسان یہ جیون کے لمحے
تری ہجرت میں راحت ہو رہی ہے
میں اپنی بات پر ہی ہنس رہی ہوں
اسے مجھ سے شکایت ہو رہی ہے
جبینِ شوق جھکتی جارہی ہے
عقیدت تو عبادت ہو رہی ہے
مجھے تپتے ہوئے صحرا میں لے چل
مجھے محفل سے وحشت ہو رہی ہے
وہ جس ساعت میں بچھڑا مجھ سے وشمہ
وہ اک ساعت قیامت ہو گئی ہے ن سے تو پوچھو
اسے کیا میری عادت ہو رہی ہے؟؟
ہوئے آسان یہ جیون کے لمحے
تری ہجرت میں راحت ہو رہی ہے
میں اپنی بات پر ہی ہنس رہی ہوں
اسے مجھ سے شکایت ہو رہی ہے
جبینِ شوق جھکتی جارہی ہے
عقیدت تو عبادت ہو رہی ہے
مجھے تپتے ہوئے صحرا میں لے چل
مجھے محفل سے وحشت ہو رہی ہے
وہ جس ساعت میں بچھڑا مجھ سے وشمہ
وہ اک ساعت قیامت ہو گئی ہے
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام






