مرے حساب میں آ کے دیکھ
Poet: ZIA ULLAH TAHIR By: ZIA ULLAH TAHIR, Islamabadمرے حساب میں آ کے دیکھ
مرے خواب میں آ کے دیکھ
کرتا ہوں تیرے ساتھ کیا
مرے عذاب میں آ کے دیکھ
بوسہء دہن تنگ کے واسطے
مرے شباب میں آ کے دیکھ
کچے گھڑے کو ساتھ لے کر
مرے چناب میں آ کے دیکھ
گزرتا ہے پانی سر سے کیسے
مرے سیلاب میں آ کے دیکھ
سات سمندروں سے گہرا ہو گا
مرے پایاب میں آ کے دیکھ
پرندے ہیں محو رقص کیسے
مرے تالاب میں آ کے دیکھ
کرتے ہیں اپنے سلوک کیسا
مرے احباب میں آ کے دیکھ
نظارہ سجدہ شکرانہ طاہر
مرے محراب میں آ کے دیکھ
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






