مرے دل کی زمیں پیاسی، سنو بارش کبھی برسو
Poet: Aisha Baig Aashi By: Aisha Baig Aashi, karachiمرے دل کی زمیں پیاسی، سنو بارش کبھی برسو
مری تسکیں، مری حسرت، مری خواہش کبھی برسو
عجب سی سرد مہری کی فضا ہے حبس کی صورت
ستم کردو، کرم کر دو، مٹے رنجش کبھی برسو
جبینِ خاک کے ذرات پر لکھی ہے محرومی
یہ مُسکائیں، یہ اِترائیں، بصد نازش کبھی برسو
ہو جیسے اُجڑی اجڑی مانگ ہر شاخِ شجر یُوں ہے
یہ پتے سبز ہوں سامانِ زیبائش کبھی برسو
جب اپنی موج میں ہوتے ہو تو کھل کر برستے ہو
سنو ابرِ سکوں پروَر ! بفرمائش کبھی برسو
گُھٹن میں سانس لینا اب، بہت دشوار ہے عاشی
ملے کچھ پل مری سانسوں کو آسائش کبھی برسو
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi







