مر ی معصو میت کھا گئی چا لیں تر ی
Poet: humaira hammad By: humaira hammad, gujranwalaتری تصویر دیکھ کر صبح کرتے,آیاتھایہ دور بھی
و قت نےسکھادیاجھو ٹ,بدل گئے وہ طور بھی
مر ی معصو میت کھا گئی چا لیں تر ی
ا پنی چا لا کی پہ کر تو کبھی غو ر بھی
ا سے بھو لنا آ سا ن تو نھیں ھے مگر
کرکے دی کھ لیتے ھیں اک کوشش اور بھی
میں اکیلی ھی شب وروز ماتم نھیں کرتی
مر ے سا سیاہ نصیب ھے یھا ں مو ر بھی
ھاتھ آتانھیں حمیرا ٹوٹاتعلق کوئی کبھی
نفرت سےکٹ جاتی ھےمحبت کی ڈوربھی
More Love / Romantic Poetry
وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا وہ پھول اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
میں اس کے نام کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خواب جو آنکھوں میں پل رہا تھا کبھی
میں اس کو بند دریچوں میں رکھ کے بھول گیا
تری یادوں کے چراغوں کی روشنی لے کر
میں رات بھر کئی خوابوں میں رکھ کے بھول گیا
تری نگاہ کے نشّے کا کیا کروں آخر
میں دل کو تیری شرابوں میں رکھ کے بھول گیا
بتاؤ ان تری یادوں کا سلسلہ کیا ہے
میں اپنے آپ کو باتوں میں رکھ کے بھول گیا
وہ ایک خط جو محبت کی داستاں تھا کبھی
میں اس کو اپنی کتابوں میں رکھ کے بھول گیا
چھپائے رکھا تھا شہزاد دل میں مدت سے
میں اس کا ذکر بھی باتوں میں رکھ کے بھول گیا
Ab shahzad






