مزاج تو مان بھی لیتا امنگوں نے فاقی کردیا
Poet: Santosh Gomani By: Santosh Gomani, Mithiمزاج تو مان بھی لیتا امنگوں نے فاقی کردیا
میرے گرتے اشکوں نے مجھے ہی ساقی کردیا
آج ہم نے جو سنایا اک قطرے کے یکساں ہے
کچھ حال رودیئے اور کچھ درد باقی کردیا
وہ بستر کی کروٹیں سوچوں میں سج گئی
اس کی یاد نے اس طرح بھی شاکی کردیا
بدلگام سے کہدیا کہ پھر اگلا جنم جیئیں گے
اِس جیون میں تو بُرا بھلا کافی کردیا
انجان اس سحر سے کبھی گذرتے گذرتے
ہم نے خود کو بھی کتنا آفاقی کردیا
عشق کی عدول حکمی میں عدالتیں کچھ ایسی ہیں کہ
جو آنکھ لڑائے بیٹھا اسے حیات کا باغی کردیا
More Love / Romantic Poetry
غزل آنکھوں پہ کھلے حسنِ شفق فام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
روشن ہوں مرے گھر کے در و بام کسی شام
اے پیکرِ مخمور تری مدھ بھری آنکھیں
کر دیں نہ مجھے بھی قدح آشام کسی شام
دیکھے مجھے حیرت سے پگھلتا ہوا خورشید
سن کر لبِ جاناں سے مرا نام کسی شام
آ جائے مرے پاس وہ مصروفِ زمانہ
مل جائے مری روح کو آرام کسی شام
میں سست روی سے اسے لے جاؤں سحر تک
پڑ جائے اسے مجھ سے کوئی کام کسی شام
بھر کاسۂِ امید کو سوغاتِ یقیں سے
کر دور ملاقات کا ابہام کسی شام
گزرے ہوئے اوقات نہیں آتے کبھی ہاتھ
بہتے ہوئے لمحات قمرؔ تھام کسی شام
Qamar Aasi






